حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کریم پور-کرناٹک/ ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے شہر کریم پور کی مسجد عسکری میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ حجۃ الاسلام مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل، مقام و منزلت، دفاعِ ولایت اور خطبۂ فدکیہ کے اہم مضامین پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی ولایت و امامت کے دفاع، حق گوئی اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کا روشن نمونہ ہے۔

خطیب جمعہ نے ایام شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے علماء کرام، مراجع عظام، مؤمنین اور بالخصوص امام زمانہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے قرآن مجید کی متعدد آیات، بالخصوص آیت مودت، آیت تطہیر، آیت مباہلہ، آیت اطعام اور سورۂ کوثر کی روشنی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے عظیم مقام و منزلت کو بیان کیا اور کہا کہ ان آیات میں اہل بیت علیہم السلام کی طہارت، عظمت، ایثار اور قربِ الٰہی کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔
دفاعِ ولایت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کا نمایاں پہلو
مولانا سید وصی حیدر رضوی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کے اہم پہلو، یعنی دفاعِ ولایت و امامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہزادی کونین نے اپنے ذاتی مصائب اور غم کو پس پشت ڈال کر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے تحفظ کو اہمیت دی۔ انہوں نے اس سلسلے میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا جس میں حضرت علی علیہ السلام کو گرفتار کرکے لے جانے کی خبر ملنے پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے سخت احتجاج کیا اور آپ کی رہائی کے لئے میدان میں آئیں۔ خطیب جمعہ کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آپ کے نزدیک ولایت و امامت کا تحفظ کس قدر اہمیت رکھتا تھا۔

خطبۂ فدکیہ؛ احکامِ الٰہی کی حکمتوں کا جامع بیان
خطبۂ فدکیہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مسجد نبوی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے تاریخی خطاب کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ پردے اور حجاب کا اہتمام کرتے ہوئے قریش کی خواتین کے ہمراہ مسجد نبوی میں تشریف لائیں، جہاں آپ کے اور حاضرین کے درمیان پردہ نصب کیا گیا۔ اس کے بعد آپ نے ایسا تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جو آج خطبۂ فدکیہ کے نام سے معروف ہے۔
مولانا نے خطبے کے آغاز میں بیان ہونے والے کلمات «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ أَبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» کی تشریح کرتے ہوئے بالخصوص لفظ «أَنَّ أَبِي مُحَمَّدًا» کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ اس اندازِ بیان میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خصوصی نسبت اور قربت نمایاں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے خطبۂ فدکیہ میں تقریباً بیس اہم موضوعات کے فلسفے اور حکمتوں کو نہایت جامع اور مختصر انداز میں بیان فرمایا۔ آپ نے ایمان کو شرک سے پاکیزگی، نماز کو تکبر سے دوری، زکوٰۃ کو نفس کی پاکیزگی، روزے کو اخلاص کی مضبوطی اور حج کو دین کے استحکام کا ذریعہ قرار دیا۔

اسی طرح آپ نے عدل کو دلوں کے درمیان ہم آہنگی، ہماری اطاعت کو امت کے نظام اور ہماری امامت کو تفرقے سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا۔ مولانا نے اس جملے «وَإِمَامَتَنَا أَمَانًا مِنَ الْفُرْقَةِ» کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے بعد امت حضرت علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کو تسلیم کرکے آپ کی اطاعت کرتی تو امت اختلاف اور تفرقے سے محفوظ رہتی۔
انہوں نے خطبۂ فدکیہ کے دیگر مضامین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے جہاد کو اسلام کی عزت، صبر کو اجر و سلامتی، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو غضبِ الٰہی سے حفاظت، صلہ رحمی کو نسل میں اضافے اور قصاص کو انسانی جانوں کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیا۔
مولانا نے خطبے کے اس تاریخی جملے «أَيُّهَا النَّاسُ، اعْلَمُوا أَنِّي فَاطِمَةُ وَأَبِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ» کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض تعارف نہیں، بلکہ امت کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے اپنی نسبت اور اپنے مقام کی یاد دہانی کرانے والا ایک اہم تاریخی بیان ہے۔
اسلامی تعلیمات اور باطل معاشی مفادات
حالات حاضرہ کا ذکر کرتے ہوئے خطیب جمعہ نے کہا کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات بعض ایسی معاشی اور تجارتی سرگرمیوں سے متصادم ہیں جن سے مختلف طاقتیں اپنے مفادات وابستہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے سود و بیاج، فحاشی پر مبنی فلموں اور تفریحی سرگرمیوں نیز شراب اور اس کی تجارت کو مثال کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ اسلام انسان کو پاکیزہ زندگی، عدل، اخلاق اور حلال معیشت کی طرف دعوت دیتا ہے، اسی لئے اسلامی تعلیمات بعض باطل مفادات کے لئے چیلنج بن جاتی ہیں۔

رضائے فاطمہ، رضائے الٰہی کا ذریعہ
مولانا سید وصی حیدر رضوی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی معروف حدیث «إِنَّ اللّٰهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِ فَاطِمَةَ وَيَرْضَى لِرِضَاهَا» بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی رضا و ناراضی کو رضائے الٰہی اور غضبِ الٰہی سے جوڑا گیا ہے۔ لہٰذا محض عبادات کی ادائیگی کافی نہیں، بلکہ انسان کے دل میں اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور ان کی تعلیمات کی پیروی بھی ہونی چاہئے۔ اگر ہم رضائے الٰہی کے خواہاں ہیں تو ہمیں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت اور تعلیمات کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہوگا۔
ایران، فلسطین اور غزہ کی صورت حال پر اظہارِ خیال
خطیب جمعہ نے ایران کی جنگ اور فلسطین و غزہ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجوں کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے غزہ کی تباہی اور فلسطینی عوام پر جاری مظالم کے تناظر میں 57 اسلامی ممالک کے کردار اور خاموشی پر سوال اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مزاحمت اور دو ایٹمی طاقتوں کے مقابلے میں اس کی جدوجہد کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ مقابلہ صرف سرحدوں کا نہیں، بلکہ اسلامی اقدار، قومی خودمختاری اور دینی شناخت کے تحفظ کا بھی ہے۔
انہوں نے انصار اللہ، حزب اللہ، حماس اور ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوتیں اسلام اور قرآن کے مخالف طاقتوں کے مقابلے میں مزاحمت کر رہی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت اور جنگ بدر، احد، خیبر اور خندق کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی حضرت علی علیہ السلام کو اپنا امام ماننے والے ظلم کے مقابلے میں استقامت اور مزاحمت کا پیغام دے رہے ہیں۔
ایام فاطمیہ کی مجالس میں شرکت کی دعوت
خطاب کے اختتام پر مولانا سید وصی حیدر رضوی نے اعلان کیا کہ کریم پور میں ایام فاطمیہ کی مجالس آئندہ جمعرات سے شروع ہوں گی۔ انہوں نے مؤمنین سے ان مجالس میں بھرپور شرکت کرنے، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، مظلومیت اور تعلیمات سے آگاہی حاصل کرنے اور مجالس کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
آخر میں ملک ہندوستان میں امن و امان، اتحاد و بھائی چارے، ترقی و خوشحالی اور استحکام کے لئے دعا کی گئی۔ نیز ایران کی کامیابی، فلسطین و غزہ سمیت دنیا بھر کے مظلوموں کی حفاظت، امام زمانہ حضرت حجت ابن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل اور تمام مؤمنین و مؤمنات کی مشکلات کے حل اور عاقبت بخیر ہونے کے لئے بارگاہ الٰہی میں دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ